ممبئی۲۷؍ مارچ(ایس او نیوز/پریس ریلیز) مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکہ معاملہ زخمی ہونے والی دیڑھ سالہ بچے کے والد نے بچے کی جانب سے گواہی دیتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت کو بتایا کہ ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ء کو وہ عید کی خریداری کے لیئے اس کے ضیف والد اور بچوں کے ساتھ انجمن چوک کی طرف گیا تھا اسی دوان جب وہ بھکو چوک پہنچا تو موٹر سائیکل پر زبردست بم دھماکہ ہوا جس میں اس کی دیڑھ سالہ بچی اور اس کے والد کو شدید چوٹ پہنچی تھی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ممبئی میں واقع خصوصی این آئی اے عدالت میں بطور سرکاری گواہ پیش ہوئے پیشے سے مدرس شیخ مدبر نے سرکاری وکیل اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایاکہ ۲۹؍ ستمبر کی شب تقریباً ساڑھے نو بجے کے قریب و ہ خریداری کے لیئے جارہے تھے لیکن جیسے ہی وہ بھکوا چوک پہنچے زبردست دھماکہ ہوا جس کی وجہ سے علاقے میں دھواں دھواں ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اس کی سائیکل کی اگلی سیٹ پر بیٹھی اس کی دیڑھ سالہ بچی کو بھی چوٹ لگی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے والد کو بھی زخم آئے تھے جن کا گذشتہ سال انتقال ہوگیا۔
خصوصی این آئی اے عدالت میں متذکرہ گواہ کے علاوہ مزید چار گواہوں کی گذشتہ دو دنوں کے دوران گواہی عمل میںآئی جنہوں نے عدالت کو بم دھماکوں کے متعلق تفصیلات بتائیں۔
سرکاری وکیل کے سوالات کے اختتام کے بعد حسب سابق بھگواملزمین کے وکلاء نے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد پر الزام عائد کیا کہ آج وہ این آئی اے کے دباؤ میں جھوٹی گواہی دے رہے ہیں نیز وہ بم دھماکوں کی وجہ سے زخمی نہیں ہوئے تھے۔
عیاں رہے ابتک اس معاملے میں ۷۳؍ سرکاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں جس میں بیشتر بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد اور ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر س شامل ہیں۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے استغاثہ کو حکم دیا کہ کل عدالت میں دیگر زخمیوں کو گواہی دینے کے لیئے پیش کرے۔
دوران سماعت عدالت میں بم دھماکوں کے متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکلاء شاہد ندیم، ابھیشک پانڈے ، ہیتالی سیٹھ ، ایڈوکیٹ عادل شیخ و دیگرموجود تھے۔